تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی I (اے رسول) کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ قبیلہ اور تمہارا وہ مال جو تم نے کمایا ہے۔ اور تمہاری وہ تجارت جس کے مندا پڑ جانے سے ڈرتے ہو اور تمہارے وہ رہائشی مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو۔ تم کو اللہ، اس کے رسول اور راہِ خدا میں جہاد کرنے سے زیادہ عزیز ہیں۔ تو پھر انتظار کرو۔ یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ (تمہارے سامنے) لے آئے اور اللہ فاسق و فاجر قوم کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا۔ (سورہ توبہ، آیت 24)
کبھی کبھی تاریخ اپنے اوراق کو اس شدت سے الٹتی ہے کہ الفاظ لرز اٹھتے ہیں، قلم کانپنے لگتا ہے اور انسان اپنے ہی دعووں کے ملبے تلے کھڑا خود سے سوال کرتا ہے کہ آخر اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے؟ ایسے ہی لمحوں میں قرآنِ مجید کی وہ آیات سامنے آتی ہیں جو محض تلاوت کے لئے نہیں بلکہ بیداری کے لئے نازل ہوئی ہیں۔ سورۂ توبہ کی آیت 24 انہی آیات میں سے ہے، ایک ایسی آیت جو دلوں کے اندر چھپی ہوئی ترجیحات کو بے نقاب کرتی ہے، جو انسان کے ظاہر و باطن کے درمیان حائل پردوں کو چاک کرتی ہے، اور جو یہ فیصلہ سناتی ہے کہ ایمان صرف دعویٰ نہیں بلکہ ایک کٹھن انتخاب کا نام ہے۔
یہ آیت انسان کے سامنے ایک ترازو رکھتی ہے، ایک پلڑے میں دنیا کی تمام محبوب چیزیں: باپ، بیٹے، بھائی، شریکِ حیات، خاندان، مال، تجارت، مکانات۔ اور دوسرے پلڑے میں اللہ، اس کے رسولؐ اور اس کی راہ میں جدوجہد۔ پھر ایک خاموش مگر گرجدار سوال اٹھتا ہے: تمہارے دل کا جھکاؤ کس طرف ہے؟
یہ سوال آسان نہیں، کیونکہ اس کا جواب زبان سے نہیں بلکہ زندگی سے دینا پڑتا ہے۔
آج کا زمانہ اسی سوال کا عملی امتحان ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس آیت کو اپنے وجود میں جذب کر لیا ہے، جنہوں نے اپنی محبتوں کو اللہ کی محبت کے تابع کر دیا ہے، اور دوسری طرف وہ ہیں جنہوں نے اللہ کی محبت کو اپنی دنیاوی وابستگیوں کے تابع کر لیا ہے۔ یہی وہ تقسیم ہے جو آج کے عالمِ اسلام کو دو واضح حصوں میں بانٹتی ہے۔ استقامت اور مصلحت، قربانی اور مفاد، بیداری اور غفلت۔
ایران اور لبنان کے مومنین اس آیت کے زندہ استعارے بن چکے ہیں۔ ان کی سرزمینوں پر صرف سیاست نہیں، ایمان کی تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ ان کے گھروں سے اٹھنے والی صدائیں محض نعرے نہیں بلکہ ایک عہد کی تجدید ہیں، وہ عہد جو انسان نے اپنے رب سے کیا تھا کہ وہ ہر حال میں حق کا ساتھ دے گا۔ انہوں نے دنیا کو یہ دکھایا کہ جب ایمان دل میں اتر جائے تو پھر خوف کی تمام دیواریں گر جاتی ہیں، اور انسان ایک ایسی قوت میں بدل جاتا ہے جسے نہ دھمکیاں روک سکتی ہیں اور نہ ہی لالچ خرید سکتا ہے۔
وہ مائیں جو اپنے جوان بیٹوں کو راہِ حق میں قربان کرتی ہیں، وہ باپ جو اپنے بیٹوں کے جنازوں کو فخر سے اٹھاتے ہیں، وہ بہنیں جو آنسوؤں کو ضبط کر کے صبر کا پیکر بن جاتی ہیں، یہ سب اس آیت کی عملی تفسیر ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی کا مفہوم بدل چکا ہے؛ ان کے لئے عزت، آسائش اور سلامتی کا معیار وہ نہیں جو دنیا نے مقرر کیا ہے، بلکہ وہ ہے جو اللہ نے طے کیا ہے۔
ان کے ہاں شہادت ایک سانحہ نہیں بلکہ ایک سعادت ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی فانی زندگی کو ایک ابدی حقیقت میں ڈھال دیتا ہے۔ جب ایک جوان اپنے خون سے زمین کو رنگتا ہے تو دراصل وہ ایک نئی تاریخ لکھتا ہے، ایسی تاریخ جس کے الفاظ مٹائے نہیں جا سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دشمن جتنی شدت سے حملہ کرتے ہیں، اتنی ہی شدت سے ان کا ایمان مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جو راہ اللہ کی ہو، اس میں ہر نقصان دراصل ایک نئی فتح کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
مگر اسی منظر کے دوسرے کنارے پر ایک اور حقیقت بھی موجود ہے۔ ایک تلخ، کڑوی اور شرمناک حقیقت۔ وہ نام نہاد مسلم ممالک جو وسائل میں بے پناہ ہیں، جن کے خزانے لبریز ہیں، جن کے ایوان طاقت اور اختیار کے مراکز ہیں، وہی سب سے زیادہ خاموش ہیں۔ ان کی زبانیں گنگ ہیں، ان کے ضمیر سوئے ہوئے ہیں، اور ان کے دل دنیوی مفادات کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔
یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اس آیت نے پیشگی خبردار کیا تھا۔ ان کے لئے تجارت کا نقصان ایک سانحہ ہے مگر امت کا زوال نہیں؛ ان کے لئے اقتدار کا خطرہ ایک بحران ہے مگر مظلوموں کا خون نہیں؛ ان کے لئے عالمی دباؤ ایک مسئلہ ہے مگر حق کا دفاع نہیں۔
یہ وہ المیہ ہے جو امت کے زوال کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔
یہ خاموشی محض ایک رویہ نہیں بلکہ ایک اعلان ہے۔ ایک ایسا اعلان جو یہ بتاتا ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ کی محبت کس درجے پر ہے۔ کیونکہ جب دل میں اللہ کی محبت غالب ہو تو انسان خاموش نہیں رہ سکتا، وہ اٹھتا ہے، بولتا ہے، اور اگر ضرورت پڑے تو قربانی بھی دیتا ہے۔ مگر جب دل دنیا کی محبت سے بھر جائے تو زبانیں بند ہو جاتی ہیں اور ضمیر سو جاتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کبھی اپنی طاقت سے نہیں جیتا، بلکہ مظلوم کے حامیوں کی خاموشی سے جیتتا ہے۔ جب حق کے علمبردار تنہا رہ جائیں اور باقی سب تماشائی بن جائیں، تو ظلم کو راستہ مل جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سورۂ توبہ کی یہ آیت ایک فیصلہ بن کر سامنے آتی ہے، ایک ایسا فیصلہ جو صرف افراد کا نہیں بلکہ قوموں کا مقدر طے کرتا ہے۔
آج کا دور ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہر شخص کو اپنا مقام متعین کرنا ہے۔
کیا وہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوگا جو حق کے لئے لڑ رہے ہیں، جو اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، جو تاریخ رقم کر رہے ہیں؟
یا وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جو خاموش ہیں، جو ڈرے ہوئے ہیں، جو اپنے مفادات کے قیدی بن چکے ہیں؟
یہ انتخاب آسان نہیں، مگر ناگزیر ہے۔ کیونکہ اس انتخاب سے نہ صرف انسان کی دنیا بلکہ اس کی آخرت بھی وابستہ ہے۔
سورۂ توبہ کی آیت 24 آج بھی اسی شدت سے پکار رہی ہے جس شدت سے وہ نزول کے وقت پکار رہی تھی۔
وہ ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے، ہمیں آئینہ دکھا رہی ہے، ہمیں مجبور کر رہی ہے کہ ہم اپنی محبتوں کا ازسرِ نو تعین کریں۔
کیونکہ آخرکار، انسان وہی ہوتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اگر اس کی سب سے بڑی محبت اللہ نہیں، تو پھر اس کے ایمان کی بنیادیں کھوکھلی ہیں۔
یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنا آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو ایران و لبنان کے مومنین اپنے خون سے لکھ رہے ہیں۔
اور یہی وہ سبق ہے جسے نظرانداز کرنے والی قومیں تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جاتی ہیں۔
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اپنی محبتوں کو کس کے تابع کرتے ہیں، اپنے ایمان کو کس حد تک لے جاتے ہیں، اور تاریخ میں اپنا نام کس صف میں لکھواتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ